حکومتِ پنجاب نے صوبے کے مستحق، بے زمین کاشتکاروں اور غریب کسانوں کی تقدیر بدلنے کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی ریلیف پیکیج کے تحت پنجاب بھر میں 2 لاکھ 50 ہزار ایکڑ سرکاری زمین مستحق افراد میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس انقلابی قدم کا مقصد دیہی علاقوں میں غربت کا خاتمہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور زرعی پیداوار میں اضافہ کر کے ملکی معیشت کو سہارا دینا ہے۔

اسکیم کی اہم تفصیلات (Key Details of the Scheme)
حکومت نے زمین کی تقسیم کے اس عمل کو مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی بنانے کے لیے ایک جامع پلان تیار کیا ہے:
- زمین کی مقدار: ہر اہل خاندان یا کسان کو 5 ایکڑ تک زمین الاٹ کی جائے گی۔
- کل رقبہ: پنجاب کے مختلف اضلاع میں موجود 2.5 لاکھ ایکڑ سرکاری بنجر اور آباد زمین اس اسکیم کے لیے مختص کی گئی ہے۔
- ترجیح: یہ زمین خاص طور پر ان کسانوں کو دی جائے گی جن کے پاس اپنی زمین نہیں ہے یا جو انتہائی چھوٹے پیمانے پر کاشتکاری کرتے ہیں۔
کون سے لوگ اہل ہیں؟ (Eligibility Criteria)
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے درج ذیل شرائط پر پورا اترنا لازمی ہے:
- بے زمین کسان: درخواست گزار کے نام پر پہلے سے کوئی زرعی زمین نہ ہو۔
- پنجاب کی رہائش: درخواست گزار کا تعلق پنجاب کے کسی بھی ضلع سے ہو اور ان کا قومی شناختی کارڈ اپ ڈیٹ ہو۔
- کاشتکاری کا تجربہ: وہ افراد جو عملی طور پر کھیتی باڑی سے جڑے ہوئے ہیں، ان کو ترجیح دی جائے گی۔
- کم آمدنی: خاندان کی مجموعی آمدنی حکومت کی مقرر کردہ غربت کی حد سے کم ہو۔
رجسٹریشن اور درخواست جمع کروانے کا مکمل طریقہ
حکومت نے اس عمل کو مکمل طور پر پیپر لیس اور شفاف بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے رشوت یا سفارش کے امکان کو ختم کیا جا سکے:
- آن لائن پورٹل: پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) کے پورٹل پر ایک مخصوص سیکشن بنایا جائے گا جہاں کسان اپنی درخواست دے سکیں گے۔
- اسسٹنٹ کمشنر آفس: امیدوار اپنے قریبی تحصیل آفس، پٹواری یا اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں جا کر بھی رجسٹریشن کی تفصیلات اور فارم حاصل کر سکتے ہیں۔
- ضروری دستاویزات: قومی شناختی کارڈ کی کاپی، ڈومیسائل، اور بے زمین ہونے کا بیانِ حلفی (Affidavit) درکار ہوگا۔
اس اسکیم کے بڑے فائدے اور اثرات
- روزگار کے مواقع: لاکھوں بے زمین خاندانوں کو باعزت روزگار ملے گا اور ان کا معیارِ زندگی بلند ہوگا۔
- زرعی ترقی: بنجر زمینوں کو آباد کر کے ملکی زرعی پیداوار بڑھے گی اور پاکستان غذائی قلت سے محفوظ رہے گا۔
- مالی خودمختاری: 5 ایکڑ زمین ایک غریب خاندان کو مالی طور پر مستحکم اور خودمختار کرنے کے لیے کافی ہے۔